طالب جلال
دارالعصر، نئی دہلی، الہند
ماضی قریب میں سوڈان کی سیاسی تاریخ میں ایک نہایت اہم موڑ اس وقت آیا جب عمر البشیر (عمر البشیر – Omar al-Bashir) نے اقتدار سنبھالا۔
ان کی حکومت کا قیام محض ایک اتفاق نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے کئی سیاسی، فوجی اور نظریاتی عوامل (political, military, and ideological factors) کارفرما تھے۔
انہوں نے 1989 میں ایک فوجی بغاوت (military coup) کے ذریعے اس وقت کے وزیرِ اعظم صادق المہدی (Sadiq al-Mahdi) کی حکومت کا تختہ الٹا اور ملک میں ایک اسلامی-فوجی نظامِ حکومت (Islamist-military regime) کی بنیاد رکھی۔
ابتدا میں انہوں نے ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ، معاشی اصلاحات، اور قومی وحدت کے نعرے کے ذریعے عوامی حمایت حاصل کی، مگر رفتہ رفتہ ان کی حکومت آمریت (authoritarian) ہوتی گئی۔
عمرالبشیر نے اپنے قریبی ساتھیوں سے بھی اختلافات پیدا کیے۔ معروف مفکر ڈاکٹر حسن الترابی (Dr. Hassan al-Turabi) جو کبھی ان کے فکری رہنما اور سیاسی اتحادی تھے، اختلافات کے نتیجے میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے پر مجبور ہوئے۔
ترابی اور بشیر کے اختلافات کا بنیادی سبب اختیارات کی تقسیم (power sharing) اور اسلامی تحریک کے سیاسی کردار پر اختلاف رائے تھا۔
ترابی عوامی شمولیت اور سول عوامی کردار (civilian participation) کے قائل تھے، جبکہ بشیر نے فوجی کنٹرول کو فوقیت دی۔
یہ اختلاف آخرکار حکومت اور اسلامی تحریک (Islamic Movement) دونوں کے اندر ایک گہری دراڑ کا سبب بنا۔
2018 میں راقم کو سوڈان کے دورے کے دوران عمر الترابی (حسن الترابی کے بیٹے) سے ملاقات کا موقع ملا، جو خرطوم البحری (Khartoum Bahri) میں ایک ولیمہ کی تقریب میں ہوئی۔
اس موقع پر محسوس ہوا کہ ترابی خاندان کے اثرات اگرچہ کمزور ہو چکے تھے، مگر ان کی فکری میراث اب بھی سوڈانی معاشرے کے دانشور حلقوں میں موجود تھی۔
اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو عمرالبشیر کے دور میں سوڈان میں ایک حد تک استحکام اور نسبتاً امن (stability and relative peace) موجود تھا۔
اس دور میں Sudanese Pound کے مقابلے میں ایک امریکی ڈالر تقریباً 18 پاؤنڈ کے برابر تھا، جو بعد میں بڑھ کر 55 تک پہنچ گیا، یعنی معیشت میں بتدریج قدر میں کمی اور مہنگائی (devaluation and inflation) کا عمل جاری تھا۔
اقتصادی زوال کی بڑی وجہ امریکی پابندیاں (U.S. sanctions)، جنوبی سوڈان کی علیحدگی (South Sudan secession) کے بعد تیل کی آمدنی میں کمی، اور اندرونی کرپشن (internal corruption) تھی۔
ان بحرانوں کے نتیجے میں عوامی غم و غصہ بڑھتا گیا اور حکومت اپنی بقا کے لیے غیر روایتی راستوں پر چل پڑی۔
اپنے اقتدار کو محفوظ رکھنے کے لیے عمرالبشیر نے ایک نیم فوجی ملیشیا تشکیل دی جسے “جنجوید” (Janjaweed) کہا گیا۔
یہ فورس دراصل دارفور تنازعہ (Darfur conflict 2003-2008) کے دوران ابھری، جس کا مقصد مغربی سوڈان میں باغیوں کو کچلنا تھا۔
اس کی قیادت محمد حمدان دقلو (حمیدتی) کو دی گئی، جو ایک چرواہا قبیلے سے تعلق رکھتے تھے اور ان کا کوئی باضابطہ فوجی پس منظر (formal military background) نہیں تھا۔
بعد ازاں اسی ملیشیا کو فوری امدادی دستے (Rapid Support Forces – RSF) کے نام سے قانونی حیثیت دی گئی تاکہ وہ حکومت کے زیرِ انتظام کام کرے۔
یہ فورس عملاً بشیر کی ذاتی محافظ فورس (personal guard) بن گئی، جس کا مقصد فوجی ادارے سوڈانی مسلح افواج (Sudanese Armed Forces – SAF) پر دباؤ برقرار رکھنا تھا۔
یوں سوڈان میں طاقت کا ایک خطرناک توازن وجود میں آیا:
ایک طرف منظم فوج (SAF)، اور دوسری طرف نیم خودمختار RSF۔
بشیر نے سمجھا کہ یہ متوازی کمانڈ ڈھانچہ (parallel command system) ان کے اقتدار کو مضبوط کرے گا، مگر یہی فیصلہ بعد میں ان کے زوال کا باعث بنا۔
وقت کے ساتھ سوڈان میں معاشی مشکلات (economic hardship)، سیاسی جبر (political repression) اور عوامی بے چینی نے ایک بڑے سیاسی طوفان کی شکل اختیار کر لی۔
2018 میں شروع ہونے والے احتجاجات نے ایک عوامی بغاوت (mass uprising) کی صورت اختیار کر لی۔
یہ تحریک سوڈانی پروفیشنلز ایسوسی ایشن (Sudanese Professionals Association – SPA) کی قیادت میں چلائی گئی اور ملک گیر انقلاب میں تبدیل ہو گئی۔
دوسری جانب فوج کے اندر بھی اختلافات پیدا ہو چکے تھے۔
کئی اعلیٰ افسران کو محسوس ہوا کہ بشیر کی پالیسیاں ملک کو عالمی تنہائی (international isolation) کی طرف لے جا رہی ہیں، خاص طور پر جب 2009 میں بین الاقوامی فوجداری عدالت (International Criminal Court – ICC) نے بشیر پر جنگی جرائم (war crimes) کے الزامات عائد کیے۔
ان تمام عوامل نے فوج اور RSF دونوں کو بشیر سے دور کر دیا۔
بالآخر 2019 میں جنرل عبدالفتاح البرہان (General Abdel Fattah al-Burhan) اور محمد حمدان حمیدتی (Hemedti) نے مل کر ایک محل میں انجام پانے والی بغاوت (palace coup) کے ذریعے ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔
یوں وہ قوتیں جن پر بشیر نے بھروسہ کیا تھا، خود ان کے خلاف کھڑی ہو گئیں۔
فوج نے دعویٰ کیا کہ اس اقدام کا مقصد ایک عبوری سول حکومت (transitional civilian government) قائم کرنا ہے۔
بشیر کے بعد ایک عبوری سیاسی معاہدہ (Transitional Agreement) وجود میں آیا، جس کے تحت سربراہی کونسل (Sovereign Council) تشکیل دی گئی۔
اس کی قیادت برہان کے پاس تھی جبکہ عبداللہ حمدوک (Abdalla Hamdok) کو عارضی وزیرِ اعظم (interim prime minister) بنایا گیا۔
یہ حکومت سول-فوجی شراکت (civilian-military partnership) کی بنیاد پر قائم ہوئی، مگر جلد ہی اختلافات پیدا ہو گئے۔
برہان نے دوبارہ اقتدار پر قبضہ کر لیا، RSF کو فوج میں ضم کرنے (integration) کی کوشش کی، مگر حمیدتی نے اسے اپنی خود مختاری کے خلاف سمجھا۔
یوں اپریل 2023 میں سوڈان ایک نئی خانَہ جنگی (civil war) میں داخل ہو گیا، جس نے خرطوم کو میدانِ جنگ بنا دیا۔
یہ جنگ بنیادی طور پر طاقت کی رسہ کشی (power struggle) تھی،
فوج (SAF) اور RSF کے درمیان۔
اگرچہ حمیدتی نے اپنی جنگ کو “جمہوریت کی حمایت” قرار دیا، مگر حقیقت میں دونوں فریق اقتدار کے بھوکے تھے۔
یہ خانہ جنگی جلد ہی بیرونی طاقتوں کو اپنی طرف کھینچ لائی۔
متحدہ عرب امارات (United Arab Emirates – UAE) حمیدتی کا اتحادی سمجھا جاتا ہے،
جبکہ مصر (Egypt) برہان کے حق میں ہے۔
یوں جنگ ایک غیر ملکی ایجنٹوں کی جنگ (proxy conflict) بن چکی ہے۔
علاقائی طاقتیں اپنے اسٹریٹجک و معاشی مفادات (strategic and economic interests) کے لیے سوڈان کو میدانِ جنگ بنا رہی ہیں۔
امارات اور سعودی عرب کے لیے سوڈان، بحر احمر (Red Sea) کے ساحل، زرعی اراضی، اور سونے کے ذخائر کے اعتبار سے ایک اسٹریٹجک مرکز (strategic hub) ہے۔
مصر سوڈانی فوج (SAF) کو اخوانی اثر کم کرنے کے لیے سپورٹ کرتا ہے۔
یوں سوڈان مکمل طور پر پراکسی میدانِ جنگ (proxy battlefield) بن گیا ہے۔
امریکہ اور مغرب کی خاموشی کی وجہ جیوپولیٹیکل ترجیحات (geopolitical priorities)،
مفادات کا تصادم (conflict of interest)،
اور سوڈان کا عالمی معیشت کے لیے کم اہم خطہ (low-stake region) ہونا ہے۔
یوں وہاں سیاسی سرمایہ کاری (political investment) نہ ہونے کے برابر ہے۔
نتیجتاً آج سوڈان شدید
سیاسی عدم استحکام (political instability)،
انسانی بحران (humanitarian crisis)
اور معاشی تباہی (economic collapse) کا شکار ہے۔
جنگ کے نتیجے میں ملک کی مجموعی پیداواری صلاحیت (GDP) تقریباً 45٪ کم ہو چکی ہے۔
ایک امریکی ڈالر اس وقت تقریباً 3700 سوڈانی پاؤنڈ کے برابر ہے۔
کروڑوں لوگ بے گھر، لاکھوں ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں، اور
یو این ایچ سی آر (UNHCR) کے مطابق یہ دنیا کے بدترین بے دخلی کے بحران (displacement crises) میں سے ایک ہے۔
امن کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ ایک جامع سیاسی مکالمہ (inclusive political dialogue) اور سول قیادت میں انتقالِ اقتدار (civilian-led transition) کا آغاز ہو۔
یہ بحران واضح کرتا ہے کہ غیر جائز طاقت (power without legitimacy) ہمیشہ تباہی لاتی ہے،
اور جو قومیں ادارہ جاتی توازن (institutional balance) کھو دیتی ہیں، وہ خود اپنے ہاتھوں برباد ہو جاتی ہیں۔
#africanconflict
#proxywarinsudan
#GlobalSilence
#humanitariancrisis
#redseageopolitics
#africaninstability
#SudanPeace
#internationalinterests
#GeopoliticalAnalysis