القرآن یونیورسٹی
القرآن یونیورسٹی دارالعصر کا ایک مستقبل ساز اور تہذیب ساز منصوبہ ہے۔
القرآن یونیورسٹی کا مقصد:
١ـ قرآن کو میزانِ حق کے طور پر قائم کرنا
تاکہ فکر، علم، نظام، اخلاق اور تعبیر سب قرآن کے تابع ہوں اور کوئی انسانی ساختہ معیار اس پر حاکم نہ ہو۔
٢ـ براہِ راست فہمِ قرآن کی صلاحیت پیدا کرنا
تدبر، لسانی دقت، سیاقی مطالعہ اور موضوعاتی تجزیہ کے ذریعے قرآن تک براہِ راست رسائی کی تربیت دینا۔
٣ـ قرآن کی بنیاد پر علم کی تشکیلِ نو کرنا
قرآن کے تصورِ علم کو بنیاد بنا کر انسانی علوم کا ازسرِنو جائزہ لینا اور ایک قرآنی علمی ڈھانچہ تشکیل دینا۔
٤ـ قرآن کے تصورِ علم کا احیاء
علم کو محض معلومات یا طاقت نہیں بلکہ ہدایت، ذمہ داری اور اخلاقی امانت کے طور پر قائم کرنا۔
٥ـ قرآنی مصطلحات کا احیاء و تشکیل
ایمان، اسلام، تقویٰ، عدل، فسق، نفاق، جہاد، عبادت، خلافت، امانت وغیرہ کو ان کے خالص قرآنی مفہوم میں زندہ کرنا اور تحریفات سے پاک کرنا۔
٦ـ قرآن کے علاوہ دیگر تمام مصادر کا محاکمہ
تاریخ، روایت، فقہ، فلسفہ، تصوف، جدید نظریات اور عصری علوم سب کو قرآن کے میزان پر پرکھنا اور ان کی قدر و حد متعین کرنا۔
٧ـ روایتی و انسان ساختہ مذہبی علوم کی تنقیدی جانچ
موروثی مذہبی ڈھانچوں، فرقہ وارانہ تعبیرات اور بعد کے علمی نظاموں کا علمی تجزیہ کرتے ہوئے قرآن کی بالادستی کو واضح کرنا۔
٨ـ ایمان کو عملِ صالح سے جوڑنا
نظری ایمان کو عملی ذمہ داری میں تبدیل کرنا اور “ایمان → عملِ صالح → تواصی بالحق → تواصی بالصبر” کے زندہ نظام کی تشکیل۔
٩ـ فرد و معاشرہ کی قرآنی تشکیل
اخلاق، معاشرت، معیشت، سیاست اور اجتماعی نظم کو قرآن کے اصولوں پر سمجھنا اور ان کی اصلاحی سمت متعین کرنا۔
١٠ـ متدبر، عامل اور ذمہ دار نسل تیار کرنا
ایسی نسل جو:
•قرآن کو براہِ راست سمجھتی ہو
•حق کی شہادت دیتی ہو
•فکری طور پر آزاد اور اخلاقی طور پر پابند ہو
•تہذیبی خود اعتمادی رکھتی ہو
القرآن یونیورسٹی کیوں ضروری ہے؟
القرآن یونیورسٹی کسی تعلیمی ادارے کے قیام کا محض ایک منصوبہ نہیں ہوگی، بلکہ یہ ایک ایسے فکری، اخلاقی اور تہذیبی بحران کا جواب ہوگی جو طویل عرصے سے مسلم معاشروں میں پیدا ہو چکا ہے۔
یہ ادارہ اس شعور کے ساتھ وجود میں آئے گا کہ امت کو محض مزید تعلیمی ڈگریوں کی نہیں بلکہ علم کی اصل بنیادوں کی تجدید کی ضرورت ہے اور وہ بنیاد قرآن ہے۔
١۔ قرآن کو دوبارہ میزان بنانا ناگزیر ہے۔
صدیوں کے فکری ارتقاء میں ایسا ہو چکا ہے کہ:
•قرآن اصل مصدر ہونے کے باوجود اکثر عملی طور پر ثانوی حوالہ بن گیا ہے۔
•بہت سی تعبیرات، آراء اور تاریخی روایات نے میزان کی حیثیت اختیار کر لی ہے۔
•دینی فکر کا بڑا حصہ براہِ راست قرآن کے بجائے تشریحات کے گرد گھومنے لگا ہے۔
نتیجتاً:
•قرآن کی اصل دعوت تدبر، شعور اور ذمہ داری کمزور پڑ گئی ہے۔
القرآن یونیورسٹی اس تاریخی توازن کو درست کرنے کے لیے قائم کی جائے گی تاکہ:
•قرآن دوبارہ مرکزی معیار بنے
•اور باقی تمام علمی مواد کو قرآنی میزان پر پرکھنے کی روایت زندہ ہو۔
٢۔ علم اور عمل کے درمیان پیدا ہونے والی خلیج کو ختم کرنا ضروری ہے۔
جدید اور روایتی دونوں تعلیمی نظاموں میں ایک بڑا مسئلہ یہ پیدا ہو چکا ہے کہ:
•علم کو معلومات اور ڈگری تک محدود کر دیا گیا ہے
•ایمان کو زیادہ تر نعرہ یا شناخت بنا دیا گیا ہے
•اخلاق کو محض نصیحت کا موضوع سمجھ لیا گیا ہے
•اور عمل کو فرد کا نجی معاملہ قرار دے دیا گیا ہے
القرآن یونیورسٹی کا مقصد یہ ہوگا کہ:
علم، ایمان، اخلاق اور عمل کو ایک مربوط نظام کے طور پر دوبارہ زندہ کیا جائے۔
٣۔ آنے والی نسلوں کو براہِ راست فہمِ قرآن کی ضرورت ہے۔
عصر حاضر کی نئی نسل کی فکری ساخت پہلے سے مختلف ہو چکی ہے۔
نوجوان:
•سوال کرتے ہیں
•دلیل چاہتے ہیں
•اندھی تقلید قبول نہیں کرتے
•اور براہِ راست متن کو سمجھنا چاہتے ہیں
اس وقت انہیں قرآن تک براہِ راست رسائی کا علمی راستہ نہ ملنے کی وجہ سے دو انتہائیں پیدا ہو چکی ہیں:
1.جذباتی مذہبیت اور فکری تنگ نظری
2.مذہب سے مکمل دوری یا الحاد
القرآن یونیورسٹی ایک ایسا علمی ماحول فراہم کرے گی جہاں:
•سوال کو دبایا نہیں جائے گا
•بلکہ تدبر، تحقیق اور مکالمہ کے ذریعے قرآن کی روشنی میں جواب تلاش کیا جائے گا۔
٤۔ معاشرتی بحران دراصل اخلاقی بحران ہے
معاشروں میں پھیلنے والی بہت سی خرابیاں جیسے:
•بدعنوانی
•طاقت کا ناجائز استعمال
•معاشی ناانصافی
•سماجی استحصال
درحقیقت اخلاقی بحران کی علامات ہیں۔
قرآن ایک ایسا اخلاقی نظام پیش کرتا ہے جس کی بنیاد ہے:
•عدل
•امانت
•دیانت
•جواب دہی
•انسانی کرامت
لیکن یہ اصول اس وقت تک مؤثر نہیں ہو سکتے جب تک:
•ان کی علمی تشریح
•اور عملی تربیت
دونوں منظم طریقے سے نہ کی جائیں۔
القرآن یونیورسٹی اسی مقصد کے لیے ایک منظم علمی و تربیتی مرکز بنے گی۔
٥۔ تہذیبی خود اعتمادی کی بحالی ضروری ہے۔
مسلم دنیا اس وقت ایک فکری کشمکش سے گزر رہی ہے:
ایک طرف:
•ماضی کی غیر تنقیدی تقدیس
دوسری طرف:
•جدید مغربی فکر کی غیر مشروط تقلید
ان دونوں کے درمیان ایک متوازن علمی راستہ درکار ہے۔
القرآن یونیورسٹی اس توازن کو پیدا کرے گی:
•قرآن کی روشنی میں جدید نظریات کا جائزہ لے کر
•عقل اور وحی کے صحیح تعلق کو واضح کر کے
•اور ایک صحت مند تہذیبی خود اعتمادی پیدا کر کے۔
٦۔ امت کو شہادتِ حق کے شعور کی تجدید درکار ہے
قرآن امت کو ایک بلند ذمہ داری دیتا ہے:
“شہادت علی الناس”
یعنی انسانیت کے سامنے حق کی گواہی دینا۔
لیکن یہ منصب صرف دعوے سے حاصل نہیں ہوتا۔
اس کے لیے ضروری ہے:
•گہرا علم
•مضبوط اخلاق
•اور اجتماعی ذمہ داری کا شعور
القرآن یونیورسٹی ایک ایسی نسل تیار کرے گی جو:
•قرآن کو سمجھتی ہو
•اس پر عمل کرتی ہو
•اور اس کی روشنی میں انسانیت کے مسائل کا سامنا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔
القرآن یونیورسٹی ایک عمارت نہیں ہوگی
بلکہ ایک فکری بیداری، اخلاقی اصلاح اور علمی تجدید کا منصوبہ ہوگی۔
آئیں اور اس مشن کا حصہ بنیں
القرآن یونیورسٹی محض ایک تعلیمی ادارہ نہیں ہوگا بلکہ ایک فکری، علمی اور اخلاقی تجدید کا منصوبہ ہوگا جس کا مقصد قرآن کو دوبارہ علم اور زندگی کے مرکز میں لانا ہے۔
یہ دعوت ان تمام لوگوں کے لیے ہے جو سمجھتے ہیں کہ امت کو ایک ایسے علمی ماحول کی ضرورت ہے جہاں قرآن کو براہِ راست سمجھا جائے، علم کو عمل سے جوڑا جائے اور ایک ذمہ دار و متدبر نسل تیار کی جائے۔
ہم اہلِ علم کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنی تحقیق، فکر اور تدبر کے ذریعے اس علمی سفر میں شریک ہوں۔
ہم نوجوانوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ شعوری فہمِ قرآن کی طرف آئیں۔
اور ہم اہلِ خیر و اہلِ ثروت کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اس عظیم مقصد کے لیے اپنا تعاون پیش کریں تاکہ یہ خواب حقیقت بن سکے۔
آئیں، اس مشن کا حصہ بنیں کیونکہ قرآن کی طرف واپسی ہی امت کے مستقبل کی ضمانت ہے۔